Turki History ترکی کی تاریخ




ترکی کی تاریخ
Turkish   History

تصویر:Flag of Turkey.svg
                                                                              
ترکی (سرکاری نام: Türkiye Cumhuriyeti
ترکی (سرکاری نام: Türkiye Cumhuriyeti یعنی ترکیہ جمہوریتی) جنوب مغربی ایشیا میں جزیرہ نما اناطولیہ اور جنوبی مشرقی یورپ کے علاقہ بلقان تک پھیلا ہوا ہے۔
 
ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب۔

 دنیا کا نقشہ اٹھاکر دیکھیں تو بحیرہ روم کے مشرق میں جہاں بحیرہ روم اوربحیرہ اسود مل جاتے ہیں وہیں اس  مقام پر یورپ اور ایشیا بھی ملتے ہیں ایشیا اور یورپ کی ان سرحدوں پر واقع ملک دنیا کی عظیم ترین تہزیبوں کا مرکز  ترکی ہے جو ایک زمانے میں دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور تھا 
اسی 
ترکی کی سرحدیں 8 ممالک سے ملتی ہیں جن میں شمال مغرب میں بلغاریہ، مغرب میں یونان، شمال مشرق میں گرجستان (جارجیا)، مشرق میں آرمینیا، ایران اور آذربائیجان کا علاقہ نخچوان اور جنوب مشرق میں عراق اور شام شامل ہیں۔ علاوہ ازیں شمال میں ملکی سرحدیں بحیرہ اسود، مغرب میں بحیرہ ایجیئن اور بحیرہ مرمرہ اور جنوب میں بحیرہ روم سے ملتی ہیں۔
 
ترکی ایک جمہوری، سیکولر، آئینی جمہوریت ہے جس کا موجودہ سیاسی نظام 1923ء میں سقوط سلطنت عثمانیہ کے بعد مصطفیٰ کمال اتاترک کی زیر قیادت تشکیل دیا گیا۔ یہ اقوام متحدہ اور موتمر عالم اسلامی کا بانی رکن اور 1949ء سے یورپی مجلس اور 1952ء سے شمالی اوقیانوسی معاہدے کا رکن ہے۔ ریاست کی یورپی اتحاد میں شمولیت کے لیے مذاکرات طویل عرصے سے جاری ہیں۔
 
یورپ اور ایشیا کے درمیان محل وقوع کے اعتبار سے اہم مقام پر واقع ہونے کی وجہ سے ترکی مشرقی اور مغربی ثقافتوں کے تاریخی چوراہے پر واقع ہے۔